Saturday, June 6, 2009

To err is human ' to forgive Divine.

کہتے ہیں کہ انسان "خطا کا پتلا ہے" اور یہ بات سو فیصد درست بھی ہے انسان فرشتہ نہیں کہ خطاؤں سے پاک و مبّرا یا بالکل ہی معصوم ہو عام انسان تو پھر عام انسان ہے خطائیں تو ولیوں اور نبیوں سے بھی سرزد ہوتی رہی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ان کی توبہ قبول بھی کی گئی ہے روایات سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عاجزی و انکساری اور خشیت الہی کے سبب نا صرف ان کی توبہ قبول کی بلکہ ان کے درجات بھی بلند کئے ہیں انسانوں سے خطائیں سر زد ہونا عام سی بات ہے اس دنیا میں آئے روز کسی نہ کسی انسان سے دانستہ یا نادانستہ طور پر کوئی نہ کوئی خطا سرزد ہوتی رہتی ہے انسان سے خطا سرزد ہوجانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہےلیکن اپنی یا دوسروں کی خطا کو سر پر سوار کئے رکھنا اور ایسی خطائیں جو قابل معافی ہیں ان سے درگزر کرنے کی بجائے خطا کار کو بات پے بات برا بھلا کہنا یا بار بار اسے اس بات کا احساس دلانا کہ اس نے جو بھی کیا بہت برا کیا، یہ کیا کردیا، ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، ہم تو تمہیں بہت اچھا انسان سمجھتے تھے بھئی یہ تو تم نے بہت برا کیا، تم تو کبھی کوئی کام بغیر غلطی کے کر ہی نہیں سکتے، ہماری ہی غلطی تھی کہ ایک ناکارہ اور ناقابل اعتبار بندے پر بھروسہ کر کے ایک کام ذمہ لگایا تھا وہ بھی صحیح سے انجام نہ دے سکے، تمہیں تو کچھ کہنا بیکار ہے تم تو زندگی میں کبھی کامیاب ہو ہی نہیں سکتے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ اس قسم کی باتیں کرنا اور کسی کی خطا کو بار بار دہرا کر وقتا" فوقتا" کسی کو ذلیل و رسوا کرنا خطا در خطا ہے کسی کی غلطی کے ردعمل کے طور پر اس طرح کا طرز عمل اختیار کرنا بہت غلط ہے اس طرح کسی انسان کی شخصیت بہت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے اور یہ طرز عمل اچھے بھلے انسان کو احساس کمتری اور خود اعتمادی کی کمی کا شکار کر سکتا ہے خود اعتمادی نہ ہو تو انسان کوئی کام بھی صحت کے ساتھ انجام دینے سے قاصر رہتا ہے اور معاشرے میں تنقید اور طعن و تشنیع کا شکار ہو کر خود کو تنہائی سے رسوائی اور پھر تباہی کی طرف لے جاتا ہے اور اس تباہی میں محض اس اکیلے کی غلطی نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ دوسروں کا روا رکھنے والا غلط رویہ ہے جو اس کے ساتھ رہتے بستے ہیںجہاں خطا ہے وہاں معافی تلافی بھی ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو گناہوں پر توبہ چاہنے اور معافی چاہنے پر معاف فرما دینا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں کہ اس کے بندوں کو قابل معافی خطا کے لئے وہ سزائیں دیتے پھریں جنکا وہ سزاوار نہیں ہےہم ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی خطاؤں کو درگزر کیوں نہیں کرتے، کیوں ہمارے ظرف اخلاقیات سے عاری ہوتے جا رہے ہیں جبکہ ہم جانتے ہیں کہ حسن اخلاق کی بنیاد پر ہی دنیا میں اسلام نے فروغ پایا ہے دوسروں کو تو کیا معاف کرنا ہے بعض اوقات چند حساس دل رکھنے والے انسان اگرچہ دنیا میں کم ہی اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ جن سے اگر نادانستہ بھی کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو وہ خود کو بھی کبھی معاف نہیں کرتے اور خود کو سزا دینے کے لئے خود اذیتی کا شکار ہو کر مزید خطاؤں کے مرتکب ہو کر خطا در خطا کے عمل سے اپنی زندگی کو مزید مشکلات سے دوچار کردیتے ہیں جبکہ خود اذیتی بذات خود ایک بڑی خطا ہے اللہ کے بندوں یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ غلطی کا احساس ہو جانا ہی بذات خود خطا کی سزا ہے اور اس سزا سے چھٹکارا خود کو جسمانی و روحانی سزا دینا نہیں بلکہ آئندہ کے لئے اس خطا سے توبہ کر لینے میں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو معاف فرمانے والا اور اپنے بندوں پر رحم فرمانے والا ہے تو بندہ بندے کو معاف کرنے کا ظرف کیوں نہ پیدا کرےخود اذیتی کا شکار ہونے کی بجائے اللہ کے حضور سچے دل سے آئندہ کے لئے سابقہ خطا کے ارتکاب سے توبہ کر لیں کہ اللہ کی رحمت سے اللہ کے ہاں اپنے بندوں کے لئے توبہ کا در ہر پل کھلا ہے کہ وہ دعائیں قبول فرمانے والا اپنے بندوں کی بھلائی چاہنے والا ہےبہتر یہی ہے کہ آئندہ زندگی میں محتاط رویہ اختیار کریں اور کسی صورت رب کی رحمت سے مایوس نہ ہوں کہ 'مایوسی کفر ہے' اور ایک مسلمان کو یہ زیب نہیں کے وہ مایوسی کا شکار ہو کر اپنی زندگی ناکامی و نامرادی کے اندھیروں کی نظر کردےاصل بات خطا کا سرزد ہونا نہیں بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ خطا کیوں سرزد ہوئی اور خطا کرنے والے یا کسی کی خطا کو محسوس کرنے والے پر خطا سرزد ہونے کے بعد اس خطا کے ردّعمل کے طور پر ظاہر ہونے والے نتائج انسانی شخصیت پرکس طرح اثر انداز ہوتے ہیںتقریباً ہر دوسرا انسان اپنے لئے یہ چاہتا ہے کہ خطا کر گزرنے کے بعد بھی دوسرے اس سے نرمی و رعایت کا رویہّ برتیں مگر اس کا انحصار تو خطا کی نوعیت پر ہے ہر خطا قابل معافی نہیں ہوتی جس طرح نیک عمل کی جزا ہے اسی طرح خطا کی سزا بھی ہے اور سزا اس لئے ہے کہ انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے تاکہ وہ خطا کو دہرانے کی کوشش نہ کرے اگر خطا کی سزا نہ ہو تو انسان خطا کو خطا ہی نہ سمجھے اور خطا در خطا کرتا ہی چلا جائے جو کہ کسی بھی طرح انسانیت یا انسانی معاشرت کے حق میں نہیں ہے جہاں تک خطا کی بابت نرمی و رعایت برتنے کا تعلق ہے تو چند ایک چھوٹی موٹی جانے انجانے سرزد ہوجانے والی کوتاہیوں، ‏غلطیوں یا خطاؤں پر تو اس کا اطلاق کیا جا سکتا ہے اور نرمی و رعایت یا درگزر سے کام لے کر ان خطاؤں کے لئے غلطی کرنے والے کو معاف کیا جا سکتا ہےلیکن بڑے بڑے جرائم یا عادتاً ناحق ایسی خطائیں کر گزرنا کہ جو دوسروں کے لئے باعث ازار ہوں یا انتہائی اذیت ناک ہوں جو کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہوں تو ایسی خطائیں کرنے والا انسان کسی قسم کی رعایت یا معافی کے قابل نہیں ہوتایوں تو دوسروں کے ناروا سلوک کو معاف کردینا، درگزر سے کام لینا یا پرداشت کرجانا بہت اچھی بات ہے بلکہ مذکورہ رجحانات کو اپنانے سے ممکن ہے کہ دوسرے کو خود ہی اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور وہ آپ کے حسن اخلاق کو دیکھتے ہوئے اپنے سابقہ رویے پر خود ہی پشیمان ہو کر آ‏ئندہ کے لئے خطا کی روش چھوڑ کر متضاد روش اختیار کر لے اور اس طرح آپ اپنے مثبت طرز عمل سے منفی طرز عمل میں تبدیلی لانے میں معاون ہوں اپنی اچھائی سے دوسرے کی برائی کا خاتمہ ایسے کرسکیں جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے، جیسے مٹی تلے دبا گھٹن زدہ پیج ابر رحمت کی برسات سے زمین کا سینہ چیرتا ہے اور محبت کی طرح رنگ و خوشبو میں لپٹے حسین و دلکش پھولوں کی بہار سے اجڑے گلشن کو سجاتا سنوارتا اور مہکاتا ہےکسی کی خطا کی سزا تجویز کرنے سے پہلے کم از کم ایک بار یہ ضرور سوچ لیں کہ 'انسان خطا کا پتلا ہے' اور ہم بھی انسان ہیں اگر دوسروں سے خطا سرزد ہوئی ہے تو کسی کمزور لمحے کی زد میں آکر خود ہم بھی ایسی ہی کسی خطا کے مرتکب ہو سکتے ہیں لہٰذا دانستہ و نا دانستہ سرزد ہونے والی خطاؤں کی طرح دیگر معاملات میں دوسروں کی بابت وہی طرز عمل اختیار کریں جیسا اپنے لئے چاہتے ہیں کہ اپنے اس طرز عمل سے کسی نا کسی حد تک تو ہم اپنے معاشرے میں بڑھتے ہوئے منفی رجحانات کو کم کرسکتے ہیں اور مثبت رجحانات کو پروان چڑھانے میں معاون کردار ادا کر سکتے ہیں

IslamAnd Science.

اسلام اللہ کا سچا دین ہے ۔ ہر مسلمان کے لیے یہ بات کہنا اور اس پہ یقین کرنا بہت ہی آسان ہے لیکن یہی بات جب آپ کسی غیر مسلم سے کریں تو اس کا جواب آپ کو شائد بہت مشکل سے ملے۔ اس جدید دور میں جہاں انسان مادیت میں میں کھو چکا ہے اس کی روح مردہ ہوچکی ہے اور انسان صرف اپنی خواہشات کے پیچھے لگا ہوا وہاں اسی انسان کو راہ حق تک لے جانا اور بھی آسان ہوچکا ہے۔ سائنس کی ترقی نے اس کام کو بہت آسان کردیا ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم میں اسلام حقانیت کو ثابت کرنے کا جذبہ موجود ہو۔ ہم جاہلیت اور فروعی مسائل کا شکار نہ ہوں اور ایک وسیع سوچ کے مالک ہوں تو ہمارے لیے یہ کام کرنا اتنا مشکل نہیں۔ اللہ تعالی کی کتاب اور سنت میں وہ سب کچھ موجود ہے جو کہ ہمیں اسلام کا صحیح اور اصلی چہرہ دیکھنے اور دکھانے میں معاون ہوسکتا ہے۔ مثلاً نبی پاک نے ارشاد فریایا ہے کہ جب چھینک آئے تو الحمد للہ پڑھا کرو۔ اب ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم اس بات پہ عمل کرتے ہیں لیکن جب ہم اس کا سائنسی اور دنیاوی نظر سے معائنہ کریں تو ہم آج یہ بات سائنس کی بدولت واضح ہوچکی ہے کہ جب چھینک آتی ہے تو انسان کا دل کچھ سکینڈ کے لیے بند ہوجاتا ہے دوسرے لفظوں میں وہ موت کی کے قریب ہوجاتا ہے اسی لیے نبی پاک نے ہمیں حکم دیا ہے کہ تم چھینک آنے کے بعد اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں نئی زندگی عطا کی ہے۔قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ‌[٢٢-٥] لوگوں اگر تم کو مرنے کے بعد جی اُٹھنے میں کچھ شک ہو تو ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا تھا (یعنی ابتدا میں) مٹی سے پھر اس سے نطفہ بنا کر۔ پھر اس سے خون کا لوتھڑا بنا کر۔ پھر اس سے بوٹی بنا کر جس کی بناوٹ کامل بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی تاکہ تم پر (اپنی خالقیت) ظاہر کردیں اور ہم جس کو چاہتے ہیں ایک میعاد مقرر تک پیٹ میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتے ہیں۔ پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو۔ اور بعض (قبل از پیری مر جاتے ہیں اور بعض شیخ فالی ہوجاتے اور بڑھاپے کی) نہایت خراب عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے کے بعد بالکل بےعلم ہوجاتے ہیں۔ اور (اے دیکھنے والے) تو دیکھتا ہے (کہ ایک وقت میں) زمین خشک (پڑی ہوتی ہے) پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور ابھرنے لگتی ہے اور طرح طرح کی بارونق چیزیں اُگاتی ہے .ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ماں کہ پیٹ میں بچہ کی پیدائش کے مراحل کا ذکر کردیا۔ آج میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ ماں کے پیٹ میں بچہ بہت سے مراحل سے گزرتا ہے دیکھیں نیشنل جغرافک چینل پروگرام ان دی وومب ۔ میرا سوال یہ ہے کہ آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے جب سائنس کا وجود بھی نہیں تھا لوگ فرضی اور من گھڑت باتوں پہ یقین رکھتے تھے ہمارے نبی پاک صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے کس طرح اس بات کا علم حاصل کرلیا۔ کیا اس دور میں کوئی الٹرا ساؤنڈ مشین موجود تھی۔ کیا یہ آیات نبی پاک صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے بائبل سے نکال لی؟(نعوذ باللہ) اگر ایسی آیات بائبل میں موجود ہیں تو ہمیں دکھا دو؟ذٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَأَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ‌[٢٢-٦] ان قدرتوں سے ظاہر ہے کہ خدا ہی (قادر مطلق ہے جو) برحق ہے اور یہ کہ وہ مردوں کو زندہ کردیتا ہے۔ اور یہ کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ایک جگہ فرمایاالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ‌[٥٥-٥] سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں ۔یہ بات بھی تصدیق شدہ ہے کہ سورج اور چاند کی منزلیں مقرر ہیں اور اپنے مقررہ وقت پہ چکر مکمل کرتے ہیں۔مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ‌[٥٥-١٩] اسی نے دو دریا رواں کئے جو آپس میں ملتے ہیں ﴿١٩﴾ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ ‌[٥٥-٢٠] دونوں میں ایک آڑ ہے کہ (اس سے) تجاوز نہیں کرسکتے ﴿٢٠﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی یہ نشانی بھی عقل والوں کو دکھا دی کہ دو دریا اکھٹے بہہ رہے ہیں مگر ان کے درمیان میں ایک نہ نظر آنے والی آڑ یہ جس کی وجہ سے میٹھا پانی اور کھارا پانی آپس میں مل نہیں سکتا ہے۔ سائنس اس بات کو مانتی ہے۔أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِيهَا مِن بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَن يَشَاءُ وَيَصْرِفُهُ عَن مَّن يَشَاءُ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِکیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی بادلوں کو چلاتا ہے، اور ان کو آپس میں ملا دیتا ہے، پھر ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل میں سے مینہ نکل (کر برس) رہا ہے اور آسمان میں جو (اولوں کے) پہاڑ ہیں، ان سے اولے نازل کرتا ہے تو جس پر چاہتا ہے اس کو برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے۔ اور بادل میں جو بجلی ہوتی ہے اس کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرکے بینائی کو اُچکے لئے جاتی ہے (النور: 43) بادلوں کے بننے، ان کے چلنے، ان کا تہہ بہ تہہ ہونے، آسمان میں اولوں کے بننے اور بارش کے برسنے تک جو ترتیب اللہ تعالیٰ نے اپنی کتا ب میں بیان فرمائی ہے اس کا سائنس کیسے انکار کر سکتی ہے؟َوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَکیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟ (الأنبياء: 30)کیا سائنس آج اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتی کہ کائنات کی تخلیق ایک بہت بڑے دھماکے بگ بینگ کے زریعے سے ہوئی ۔ اللہ کی کتاب میں بات صدیوں پہلے ہی بیان ہوچکی ہے۔آج جو لوگ اسلام کے خلاف دنیا میں نفرت پھیلا رہے ہیں اسلام کو بدنام کررہے ہیں ہمارا فرض ہے کہ پہلے ہم خود اسلام کو سمجھیں اور پھر اسلام کا دفاع کریں ۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ اپنے خول اور اپنی سوچ کی حدوں سے نکل کر ہمیں اللہ تعالیٰ کے سچے دین کی خدمت کے لیے اپنے کچھ وقت کو ضرور وقف کرنا چاہئے کیوں کہ اسلام کو آج ہماری ضرورت ہے اشد ضرورت ہے۔ ہم مسلمان ہیں روز قیامت کو ہم اللہ تعالیٰ کو کیا منہ دکھائیں گے؟

Thursday, June 4, 2009

Moral Stories

Moral Stories are those that are read in childhood, when the soul is pure and clear, and remembered for the rest of the lives. They are also passed on to generations. Through Moral Stories, the idea is to present the greatness of the humanity. Through Moral Stories one can improve their moral values and can learn about the human life.
In the Noble Qur'an, there exists a chapter (28) by the name of Al-Qasas (Narratives / Stories), which itself is proof that man is in need of narratives and stories. In many places in the same Noble Qur'an, stories of Prophets, kings and nations have been mentioned.
In addition, Allah (SWT) has presented issues pertaining to wars, peace, family, religion, society and other similar topics, in the form of narratives and stories. By reading these accounts, the people can comprehend and distinguish the paths of progress and regress, and ascent and descent in every field, especially morals. The entire chapter (12) Yusuf (Joseph) has been devoted to the story of Yusuf (Joseph), Yaqub (Jacob), Zulaikha and the brothers. In the beginning of the Chapter, Allah (SWT) says:
We narrate to you (O' Prophet) the most excellent of the narratives by (means of) what We have revealed to you this Qur'an. Noble Qur'an (12:3)
While, in the concluding verse of this very chapter, Allah (SWT) says:
In their histories there is certainly a lesson for men of understanding. It is not a narrative which could be forged, but a verification of what is before it and a distinct explanation of all things and a guide and a mercy to a people who believe. Noble Qur'an (12:111)
Indeed, one of the distinguished feats of the Noble Qur'an is this very story of Prophet Yusuf (as), which it refers to as the 'best of the narratives', and at the end of which, it says: In these stories there is a lesson for those, who desire to take a moral and adopt the path of the Perfect Men.
This Moral Stories collection caters for the general public, young and old alike, who are acquainted with basic reading and writing. The subject "Moral" is universal to every human being. Hence these Moral stories are not just for any particular sect or the followers of particular faith, it is for the entire humanity, irrespective of there belief, culture, race, color or age.
Before you read and understand these Moral Stories. Let me share with you a story about a medical doctor, who was invited as a guest speaker to address a group of alcoholics in one of the social programs.
Medical doctor wanted to make a demonstration that would be powerful enough to make people realize that alcohol was injurious to their health. He had two containers, one filled with pure distilled water and another with pure alcohol. He put an earthworm into the distilled water and it swam beautifully and came up to the top. He put another earthworm into the alcohol and it disintegrated in front of everyone's eyes. He wanted to prove that this is what alcohol does inside our body. Hence, he asked the group what the moral of the story?
One person from behind said, "If you drink alcohol you won't have worms in your stomach." Was that the message? Of course not, that was selective listening; we hear what we want to hear and not what is being said. So we understand what we want to understand and follow-up in our lives ... Insha Allah. So, please don't take any negative tip from these Moral Stories.
As far as the issue of associating a story to a particular topic is concerned, we do not claim that the stories allude to just one topic or that particular one which has been specified here; rather, there are stories which can be associated with several other topics too, in addition to the topic under which it has been mentioned here.
It is hoped that the readers, after going through these narratives and stories, reflect upon and take positive lessons from them so that they are able to create within themselves, a new impetus towards perfection of morals; and Insha Allah, those who are endowed with laudable morals, should relate them to others, for rectification and remedy of the weaker souls.
The Road to Success is not straight:
There is a curve called failure, a loop called confusion, speed bumps called friends, caution lights called family, and you will have flats called jobs.
But, if you have a spare called determination, an engine called perseverance, insurance called faith, and a driver called God, you will make it to a place called success!
Live for something:
Do good, and leave behind you a monument of virtue that the storms of time can never destroy. Write your name in kindness, love, and mercy on the hearts of thousands you come in contact with year by year, and you will never be forgotten. Your name and your good deeds will shine as the stars of heaven.
Pearls of Wisdom:
Don't love the Heart that hurts you and don't hurt the Heart that loves you.
Don't cry over anyone who won't cry over you.
Good friends are hard to find, harder to leave, and impossible to forget.
Most people walk in and out of your life, but only friend's leave footprints in your heart.
True friendship "never" ends. Friends are forever.
People are lonely because they build walls instead of bridges.
If we are incapable of finding peace in ourselves, it is pointless to search elsewhere.
The bond that links your true family is not one of blood, but of respect and joy in each other's life. Rarely do members of one family grow up under the same roof.
A change of heart changes everything.
Our greatest glory is not in ever falling, but in rising every time we fall.
You only live once - but if you work it right, once is enough.
One generation plants trees, and the next enjoys the shade.
It is difficult to live in the present, ridiculous to live in the future, and impossible to live in the past. Nothing is as far away as one minute ago.
You are what you think!
Your inner thoughts can cause you to be rich or poor, loved or unloved, happy or unhappy, attractive or unattractive, powerful or weak.
What you impress upon your mind, you'll inevitably become. It's a psychological law that whatever you desire to accomplish you must first impress upon your subconscious mind.
Relentless, repetitive self talk will change your self image. You'll affect your subconscious mind with verbal repetition. Constant repetition carries conviction.
When you change your values you'll change your behavior. Start thinking of yourself as becoming the person you want to be. Self suggestion will make you the master of yourself.
If you believe you can, you can.
You can become whatever you want to be.
Must do:
In each task that must be done, there is opportunity. See the task not as a burden, but as an encouragement to be fully alive and effective.
The real burden would be the inability to do anything. No task is a burden, but is instead the chance to express your own aliveness.
Does the work seem dreary, unimaginative, tedious or boring? That's mainly because your attitude makes it so.
See what happens when you start by being thankful for the opportunity to do it. Your genuine gratitude will help you to see the positive value.
When the things you must do become things you want to do, it can transform your life. Each moment takes on more meaning; each effort brings greater and greater reward.
Rather than fighting and forcing yourself to do what must be done, let go of your resistance and allow yourself to accomplish. Let what you must, become what you want, and watch yourself begin to soar.
One step away:
If you were just one step away from reaching your goal, would you take that step? How do you know, right now, that you're not?
What a shame it would be to stop making the effort, when just a little bit more would make it all worthwhile. What a shame it would be to have taken all those steps, only to miss the very last one.
The next step you take may very well be the one that makes all the others count. You owe it to yourself, and the efforts you've made, to keep going.
No, the next step may not get you there. Yet what about the one after that? If you keep moving ahead, a little at a time, you will indeed arrive. When you take that final, triumphant step, you'll be so very thankful you persevered.
At some point success is just one step away. Keep going and you'll be there.
Slow down:
Life is not a race. It is a journey.
Getting someplace first, before anyone else, has very little real and lasting meaning. Seek instead to encourage others to come along, and you'll find the journey much more fulfilling.
When you hurry through each moment, you miss out on the richness that could be yours. Take the time to live, to experience where you are, rather than being so obsessed with getting to the next checkpoint.
When you stop demanding to have it all now, you'll discover that you have plenty already. Learn to experience joy where you are, and you'll experience it in abundance.
Yes, it can be wonderfully exhilarating when life is moving quickly. But do not move so quickly that speed becomes your only experience, for there is so much more to enjoy.
The terrain of life is filled with wonderful and astounding detail. Slow down and take in its richness.
Islamic Unity:
Allah says in The Noble Qur'an: "The Believers are but a single Brotherhood." [Al-Hujurat 49:10]
The Messenger of Allah (SWT) said, "The Muslims are like a body, if one part of the body hurts, rest of the body will also suffer."
The Messenger of Allah (SWT) said, "Believers are brethren, their lives are equal to each other and they are as one hand against their enemy."
The Messenger of Allah (SWT) said, "It is not permissible for two Muslims to be annoyed and angry for more that three days."
The Messenger of Allah (SWT) said, "When Muslims are angry with each other for three days. If they do not compromise then they go away from the limits of Islam and the one who compromise first will enter Jannah (Paradise) earlier."
ADD TO FAVORITES
NOBLE QUR'AN
We narrate to you the best of narratives, by Our revealing to you this Qur'an, though before this you were certainly one of those who did not know. (Noble Qur'an 12:3)
ANECDOTES
Islam and Discrimination Nasiba the hero The granted prayer Revoked protection
INTERESTING STORIES
Interesting Stories Religious Stories Story of Prophet Isa as Prophet Stories 0 Prophet Stories 1 Islamic Motivation Islamic Society Muslim Unity (Ittihad) Rights of Parents Rights of Children Bohlool Dana Stories Ma’soomah Nargis Khatoon (sa) Tiflaan-e-Muslim
COMPANIONS STORY
Hazrat Khadija (sa) Hazrat Umm Salamah Hazrat Salman Hazrat Abu Zar Ghaffari Hazrat Ammar ibn Yasir Miqdad ibn Aswad (ra) Hazrat Hamzah Hazrat Malik al-Ashtar Hazrat Bilal Ibn Rabah Meesam-e-Tammar (ra)
FEATURES
Downloads Names of Allah Lineage of Prophets G.I. Knowledge



We are not responsible for the contents of external websites "Ads by Google"
window.google_render_ad();










Tuesday, June 2, 2009